امامانِ عیدین مرکزی عیدگاہ شہر بہرائچ کا مختصر تعارف
امامانِ عیدین مرکزی عیدگاہ شہر بہرائچ کا مختصر تعارف
از جنید احمد نور
Juned Ahmad Noor
19-03-2026
شہر بہرائچ کی مرکزی عیدگاہ کو دینی، علمی اور روحانی اعتبار سے ہمیشہ ایک نمایاں مقام حاصل رہا ہے۔ یہاں نمازِ عیدین کی امامت ایسے اہلِ علم اور اہلِ تقویٰ حضرات کے سپرد رہی جنہوں نے نہ صرف دینی خدمات انجام دیں بلکہ شہر کی مذہبی و روحانی زندگی کی رہنمائی بھی کی۔ ذیل میں مرکزی عیدگاہ بہرائچ کے چند ممتاز ائمۂ عیدین کا مختصر تعارف پیش کیا جاتا ہے۔
حضرت مولانا حکیم سید محمد عبدالباری نقشبندی مجددی مظہری نعیمی بہرائچی رحمہ اللہ
حضرت مولانا حکیم سید محمد عبدالباری نقشبندی مجددی مظہری نعیمی بہرائچی رحمہ اللہ، مولوی سید عبد الخالق بہرائچی رحمہ اللہ کے فرزند تھے اور شہر بہرائچ کی مرکزی عیدگاہ کے سابق امام عیدین تھے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے چچا حضرت سید عبد الرحمٰن نقشبندی مجددی مظہری نعیمی بہرائچی رحمہ اللہ سے حاصل کی۔ بعد ازاں مزید تعلیم کے لیے لکھنؤ تشریف لے گئے جہاں اس زمانے کے نامور علماء سے علم حاصل کیا۔
آپ کے اساتذہ میں سید عین القضاء حیدرآبادی ثم لکھنوی رحمہ اللہ (بانی مدرسہ عالیہ فرقانیہ لکھنؤ)خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں جن سے آپ نے علومِ ظاہری کے ساتھ ساتھ علومِ باطنی میں بھی فیض حاصل کیا۔ آپ کے درسی ساتھیوں میں مولانا عبدالباری فرنگی محلی رحمہ اللہ اور امام اہل سنت مولانا عبد الشکور فاروقی کاکوروی لکھنوی رحمہ اللہ جیسے جلیل القدر علماء شامل تھے۔
آپ نے علمِ طب و حکمت میں بھی مہارت حاصل کی اور ایک ماہر حکیم کے طور پر بھی شہرت پائی۔ اپنے چچا سید عبد الرحمٰن بہرائچی رحمہ اللہ کے علمی و روحانی جانشین ہوئے اور سلسلۂ رشد و ہدایت کو آگے بڑھایا۔ آپ ایک صاحبِ حال ولی کامل تھے اور آپ کے دستِ حق پرست پر بہت سے افراد دولتِ ایمان سے سرفراز ہوئے۔ ریاست نان پارہ، گنڈارہ اور ٹپرہ کے راجگان بھی آپ کے عقیدت مندوں میں شامل تھے۔
آپ نے طویل عرصے تک شہر بہرائچ کی مرکزی عیدگاہ میں امام عیدین کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ 13 دسمبر 1931ء کو رنیہ پور (نیپال گنج) میں آپ کا وصال ہوا۔ آپ کی تدفین آپ کی خانقاہ کی مسجد حبیب اللہ، محلہ براہمنی پور بہرائچ کے متصل احاطہ میں ہوئی۔
مولانا سید محمد حبیب اللہ ندوی بہرائچی رحمہ اللہ
مولانا سید محمد حبیب اللہ ندوی بہرائچی، حضرت مولانا حکیم سید محمد عبدالباری بہرائچی رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے تھے۔ آپ کی ولادت 20 نومبر 1900ء کو ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی سے حاصل کی، اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ تشریف لے گئے اور وہاں سے سندِ فراغت حاصل کی۔
آپ کے ہم عصروں میں حضرت مولانا سید اسلم شاہ بہرائچی رحمہ اللہ (سابق سجادہ نشین خانقاہ نعیمیہ، مولسری مسجد بہرائچ) اور مولانا سید کلیم احمد ندوی بہرائچی رحمہ اللہ (سابق ناظم کتب خانہ ندوۃ العلماء) قابلِ ذکر ہیں۔
اپنے والد کے وصال کے بعد آپ ان کے علمی و روحانی جانشین ہوئے اور سلسلۂ رشد و ہدایت کو جاری رکھا۔ اسی دوران شہر بہرائچ کی مرکزی عیدگاہ کی امامت بھی آپ کے سپرد کی گئی جسے آپ نے کئی برس تک نہایت حسنِ خوبی کے ساتھ انجام دیا۔
مولانا سید محمد حبیب اللہ ندوی بہرائچی کا وصال 24 فروری 1971ء کو ہوا اور تدفین آپ کی خانقاہ کی مسجد سے متصل احاطہ میں ہوئی۔
حضرت مولانا حکیم سید محمد حفیظ اللہ بہرائچی رحمہ اللہ
مولانا سید محمد حبیب اللہ ندوی بہرائچی رحمہ اللہ کئی سال تک فالج کے مرض میں مبتلا رہے اس دوران آپ کے منجھلے بھائی مولانا حکیم سید محمد حفیظ اللہ بہرائچی نے کئی سالوں تک امام عیدین کے فرائض انجام دیے۔
حضرت مولانا سید محمد ولی اللہ ندوی بہرائچی رحمہ اللہ
حضرت مولانا سید محمد ولی اللہ ندوی بہرائچی رحمہ اللہ شہر بہرائچ کی مرکزی عیدگاہ کے سابق امام عیدین تھے۔ آپ کی ولادت یکم دسمبر 1943ء کو ہوئی۔ آپ کے والد مولانا سید محمد حبیب اللہ ندوی بہرائچی رحمہ اللہ تھے۔
آپ نے ابتدائی تعلیم مکتب اسلامیہ مسعودیہ، احاطہ جامع مسجد بہرائچ اور جامعہ مسعودیہ نورالعلوم میں حاصل کی۔ 1955ء میں نارمل ماڈل اسکول سے آٹھویں کا امتحان پاس کیا جبکہ ہائی تک کی تعلیم آزاد انٹر کالج سے حاصل کی۔
1959ء میں اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں داخلہ لیا اور 1963ء میں سندِ فراغت حاصل کی۔ اس کے بعد 1965ء میں انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کیا۔ 1967ء میں اتر پردیش لائبریری ایسوسی ایشن لکھنؤ سے لائبریرین کا کورس مکمل کیا اور 1968ء میں ادیب کامل کی سند حاصل کی۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد آزاد انٹر کالج میں بحیثیت لائبریرین ملازمت اختیار کی۔ اپنے والد کے وصال کے بعد شہر بہرائچ کی مرکزی عیدگاہ کے امام عیدین مقرر ہوئے اور کئی برس تک اس منصب پر خدمات انجام دیں۔
بعد ازاں بعض وجوہات اور بیرون ملک عمان میں مترجم (Translator) کی حیثیت سے ملازمت اختیار کرنے کی وجہ سے آپ نے امامتِ عیدین کے منصب سے استعفیٰ دے دیا۔ بیرونِ ملک سے واپسی کے بعد آپ نے اپنے اجداد کی علمی و روحانی وراثت کو سنبھالا اور اپنی خانقاہ کی مسجد میں درسِ قرآن اور دیگر علمی و دینی سرگرمیوں میں مصروف رہے۔
15 رمضان 1442ھ مطابق 28 اپریل 2021ء کو لکھنؤ کے ایک اسپتال میں آپ کا انتقال ہوا اور تدفین آبائی قبرستان مولوی باغ میں عمل میں آئی۔
حضرت مولانا ولی اللہ صاحب مظاہری دامت برکاتہم العالیہ (موجودہ امام عیدین)
مولانا ولی اللہ مظاہری موجودہ دور میں شہر بہرائچ کی مرکزی عیدگاہ کے امام عیدین ہیں۔ آپ نے ابتدائی تعلیم شہر بہرائچ میں حاصل کی اور اس کے بعد اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے مظاہر علوم سہارنپور تشریف لے گئے جہاں سے سندِ فراغت حاصل کی۔
حضرت مولانا سید محمد ولی اللہ ندوی بہرائچی کے استعفیٰ کے بعد سے آپ شہر کی مرکزی عیدگاہ میں امام عیدین کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔کئی برسوں سے آپ علالت کے باوجود عیدین کی نماز کی امامت کرتے رہے۔
تاہم 2026ء میں شدید علالت کے باعث، جیسا کہ اخباری رپورٹوں میں بھی ذکر ہوا، اس سال عید الفطر کی نماز عارضی طور پر حضرت مولانا مجیب احمد صاحب مظاہری ادا کرائے گے ۔

Comments
Post a Comment