Posts

इज़हार वारसी एक नज़र

Image
इज़हार वारसी
اظہار وارثی
इज़हार वारसी जन्ममोहम्मद इज़हार वारसी
21 नवम्बर 1940 (आयु 77)
बहराइच,उत्तर प्रदेशभारतमृत्यु21 अगस्त 2018
बहराइच,उत्तर प्रदेशभारतमृत्यु स्थान/समाधिबहराइच,उत्तर प्रदेशभारतव्यवसायकवि,निवासमोहल्ला ब्राहमणीपुरा बहराइच,उत्तर प्रदेशराष्ट्रीयताभारतीयशिक्षाकामिलउच्च शिक्षाजामिया उर्दू अलीगढ़सन्तानचारसम्बन्धीहकीम सफदर वारसीहस्ताक्षरजालस्थलFacebook Pageइज़हार वारसी का जन्म 21 नवम्बर् 1940ई.बहराइच के मोहल्ला ब्राहमणीपुरा में हकीम मोहम्मद अज़हर वारसी के यहाँ हुआ था । आपके पिता का नाम हाकिम अज़हर वारसी और माता का नाम कनीज़ सकीना था। इज़हार साहिब के दादा हकीम सफदर वारसी और पिता हकीम अज़हर वारसी को शहर के प्रसिद्ध चिकित्सको में शुमार होते थे ।हकीम सफदर साहब हाजी वारिस अली शाह के मुरीद थे और हाजी वारिस अली शाह पर एक पुस्तक लिखी जिसका नाम जलवा-ए- वारिस है। ये किताब उर्दू मे है। इज़हार साहिब के पिता अज़हर वारसी उस्ताद शायरों में शुमार होते थे। इज़हार साहिब सरकारी नौकरी से सेवानिवृत्त हुए थे। आपकी एक खास बात है आप सिर्फ़ कविता लिखते हैं किसी मुशायरा में पढ़ने नहीं जाते थे।

Izhar warsi's Rare Interview with Wasif Farooqui Sahab

Image
Late  Izhar Warsi​ Legendary Poet of Bahraich.He was died recently on 21 August 2018 at Bahraich. Interview by Wasif Farooqui​ Sahab .

With Thanks Izhar Sahab's Son In Law Danish Mirza​ Bhai .

آہ! استاذ الشراء اظہارؔ وارثی

Image
آہ! استاذ الشراءاظہارؔ وارثیبہت قریب ہیں ہم تھوڑا فاصلہ کر لیں۔۔۔۔۔اظہارؔوارثی

جمال وارثی بہرائچی

Image
سید عبد الشکور تخلص جمال ؔ وارثی کی پیدائش 1894ءمیں علاقہ ادوھ کے شہر بہرائچ کے محلہ قاضی پورہ میں ہوئی تھی۔ آپ کے والد محکمہ پولیس میں سب انسپکٹر تھے۔ڈاکٹر عبرت بہرائچی نقوش رفتگاں میں آپ کے بارے میں لکھا ہے کہ جمال صاحب مولانا وارث حسن صاحب کے مریدین میں تھے۔جن کا مزار لکھنؤ کی ٹیلے والی مسجد پہ ہے۔ آپ نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی تھی۔ آپ کی شادی مرحوم سید کلیم احمد صاحب کی چھوٹی بہن سے ہوئی تھی۔ آپ کا مولانا شاہ نعیم اللہ بہرائچیؒ خلیفہ حضرت مرزا مظہر جان جاناںؒ کے خاندان سے قریبی تعلق تھا۔ جمال وارثی ریاست نانپارہ میں کافی وقت تک سربراہ کار کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دئے ۔آزادی کے بعد آپ نے کچھ دنوں تک حضرت سیف اللہ شاہ سجادہ نشین خانکاہ بڑی تکیہ میں منیجر کی حیثیت سے خدمات انجام دی۔ آپ کے پسماندگان میں ایک بیٹے شہر بہرائچ کے مشہور وکیل سید مسعود المنان ایڈوکیٹ اور ایک بیٹی جو پاکستان میں بیاہی ہے بقید حیات ہے اس کے علاوہ آپ کے ایک صاحب زادے سید عبد المنان (شہر بہرائچ کے مشہور ہاکی کھلاڑی )اور تین بیٹوں کا انتقال ہو چکا ہے۔ جمال وارثی صاحب کے بارے میں عبرت بہرائچی لکھتے ہیں کہ جم…

شیخ فیروز شہیدؒ بہرائچی جد امجد شیخ عبد الحق محدث دہلویؒ

شیخ فیروز شہید مصنف اخبار اخیار شیخ عبد الحق محدث دہلوی کے پر دادا تھے۔انکی مزار بہرائچ میں ہے۔ اخبار اخیار میں
 شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے آپنے خاندان کے حالات شیخ فیروز شہید کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ملک موسیٰ کے کئی لڑکے تھے جن میں ایک کا نام شیخ فیروز تھا۔  شیخ فیروز میرے دادا کے حقیقی دادا تھے۔یہ شیخ فیروز تمام فضائل ظاہری و باطنی سے موصوف تھے۔اور دینی وکسبی نعمتوں سے مالامال تھے۔فن جنگ میں اپنی مثال نہ رکھتے تھے۔جنگی ترکیبوں میں اپنی قوت  طبع اور سلیقہ کے لئے بے نظیر تھے۔علم شاعری م،دلیری ،سخاوت ظرافت ،لطافت،عشق ومحبت اور دیگر صفات حمیدہ میں یکتائے روزگار تھے۔نیز دولت و حشمت،عزت وعظمت میں شہرۂ آفاق تھے۔ہمارے گھر میں شریں کلامی ،ذوق و ظرافت آپ ہی کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔آپ سلطان بہلول کے دور حکومت کے ابتدائی زمانہ میں بقید حیات تھے۔آپ نے سلطان حسین شرقی کی آمد اور سلطان بہلول سے جنگ کا قصہ نظم کیا   تھا۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی  آگے لکھتے ہیں کہ یہ کلام ہمارے پاس تھا لیکن اس وقت نہیں ہے البتہ اس کے دو شعر یاد ہے جو سلطان بہلول کو حسین شرقی نے مخاطب کر کے کہے ہیں۔
ایا قابض شہر دہلی …

سید بڈھن بہرائچی سلسلہ نقشبندیہ کے مشہور بزرگ

Image
سید بڈھن بہرائچی کی پیدائش شہر بہرائچ کے محلہ بڑی ہاٹ میں ماہ رمضان میں ہوئی تھی۔ولادت کے وقت آپ کے سر کے تمام بال سفید تھے اس  لئے  آپ کا نام بڈھنپڑگیا تھا۔آپ کے والد کا نام مخدوم سید اللہ داد تھا۔ حالات سید بڈھن بہرائچی کا خاندان ساتویں صدی ہجری میں ہلاکو خاں کے پر فتن زمانہ سے پناہ حاصل کرنے کے لئے بغداد سے ہندستان آیا تھا اور علاقہ ادوھ کے بہرائچ میں اقامت اختیار کی اور بہرائچ میں ایک محلہ آباد مخدوم پورہ کے نام سے آباد کیا جو موجودہ وقت میں بڑی ہاٹ کے نام سے مشہور ہے۔ سید ظفر احسن بہرائچی اپنے والد مولانا سید شاہ اعزازالحسن نقشبندی مجددی (سجادہنشین خانقاہ نعیمیہ بہرائچ سے نقل کرتے ہے کہ
قدیم زمانے میں بہرائچ میں دو مرتبہ ّآتش زنی ہوئی چوں کہ اس وقت بہرائچ کی ساری آبادی پھوس کے مکانات پر مشتمل تھی اس لئے سارا شہر جل گیا اور کوئی بھی اپنا سامان بچا نہ سکا اسی آگ میں میرا مکان بھی جل گیا اور میرے گھر کا اثاثہ قیمتی نوادرات اور کتابیں وغیرہ سب ضائع ہو گئیں اسی میں مخدوم سید بڈھن بہرائچی کے خاندانی حالات وغیرہ بھی تھے ۔اب صرف آپ کی تاریخ وفات اور سلسلہ نسب کے کچھ بزرگوں کے نام معلوم رہ سک…

Facebook Juned Ahmad Noor