Haji ShafiUllah Shafi Bahraichi




Haji ShafiUllah Shafi Bahraichi
Haji ShafiUllah Shafi Bahraichi was  a Urdu poet from our City Bahraich.
He was born in 1902 in a notable and famous  family of Bahraich.
His Father  Name is Barati Miyan.
His Teachers Name was Riyaz Sitapuri(By letters)  And  Rafat Bahraichi.
He was learn Arabic, Persian and Urdu.
He Was Friend of Shauq Bahraichi , Wasfi Bahraichi,Naeem Ullah Khayali Sb. Ibrat Bahraichi. and many more of bahraich's poet of his era.
His notable work : many poetry printed in monthly shair from Agra  and chaudhveen Sadi.
He was write many Naat and gazals in Urdu.
Haji Shafiullah  was founder of famous Hotel Sangam Lodge of Bahraich.
He was a Businessman . And Business of Lime Cigarette. BidiMatches and hotel.

From Dairy

From Dairy

From Dairy

From Dairy

From Dairy

From  Dairy 
 .
His wife name was Maryam.
His  5 Sons And daughters.

His  Death on 06-July-1973 at Bahraich. And  buried in  Hairat Shah Bahraich at father's side.  
he was great grand father of Me(Juned Ahmad Noor).

نمونہ کلام


قسم خدا کی نہ پایا کہیں شفیعؔ اب تک
جو کیف دے گئی مجھ کوسحر مدینے کی
غزل جناب الحاج شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی
ارے توبہ عذر جفا کروں کبھی ظرف ایسا میرا نہیںوہ مٹادیں چاہے ابھی مجھے کوئی شکوہ کوئی گلا نہیں
میں سمجھ گیا ہوں کلیم کو ذرا کام عقل سے لیجئےوہ تمیز جلوہ کریگا کیا جسے ہوش اپنا رہا نہیں
میرا دست آز اٹھا سہی میں سزا کا واقعی مستحقتو کرم نواز ازل سے تھا مجھے صبر پھر بھی دیا نہیں
تو اٹھا دے پردہ تو دیکھ لوں کسے ہوش ہے تجھے دیکھ کرابھی ہر نگاہ ہے مدعی کوئی پردہ جبکہ اٹھا نہیں
میں سمجھ گیا جو ہے کعبہ میں مجھے اتفاق ہے دیر سےمیں فریب جلوہ نہ کھاوئ نگا کوئی اور تیرے سوا نہیں
مجھے ذوق عذر ستم سہی مگر اسکا اتنا ملال کیوںجو گلہ بھی ہے وہ ہے آپ سے کسی غیرسے تو گلا نہیں
وہ بری کٹے میری زندگی مجھے فکر اسکی نہیں شفیعؔوہ بگڑ کے میراکرینگے کیا کوئی بت میرا خدا نہیں

یہ غزل ماہنامہ چودہویں صدی بہرائچ کے شمارہ فروری 1953ء میں شائع ہو چکی ہے۔
حال تیرے جگر فگاروں کاجیسے نقشہ مٹی بہاروں کا
اہمکو تو برق سے اآئے ہیںنور کیوں اڑ گیا ستاروں کا
اجب قفس تک ہے زندگی محدودتذکرہ کیوں سنیں بہاروں کا
اہم نہ کہتے تھے آپ روئیں گےچھوڑئے ذکر بے قراروں کا
امیرے چھالوں کی کمپسری پردل بھر آیا خود آج خاروں کا
امیں اسی در کا ہوں غلام شفیعؔسر جہاں خم ہے تاجداروں کا
تذکرہ شعرائے ضلع بہرائچ از نعمت بہرائچی میں حاجی شفیع اللہ شفیع کے نمونہ کلام میں یہ غزل شائع ہوئی تھی۔
From A book published in Bahraich





My Great Grand Father Haji ShafiUllah Shafi Bahraichi's Photograph on book Ahsasat-e-Faiz By My Uncle Faiz Bahraichi 
About Haji SHAfiUllah Shafi Bahraichi in Hindustan Daily  Bahraich Edition Date 17/December/2014


Comments

Popular posts from this blog

سید بڈھن بہرائچی سلسلہ نقشبندیہ کے مشہور بزرگ

Dargah Of Syed Salar Masoud Ghazi Bahraich

جمال وارثی بہرائچی