Posts

Bahraich Loksabha constituency History

بہرائچ لوک سبھا کی سیاسی تاریخ
बहराइच लोकसभा की सियासी तारीख़
1951ء-1952ء میں آزادی کے بعد پہلے عام انتخابات ہوئے جس میں پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات ایک ساتھ ہوئے تھے۔
1951ई.-1952ई.में आज़ादी के बाद पहले आम चुनाव हुए जिसमें लोकसभा और विधानसभा के चुनाव एक साथ हुए थे।
1951ءکے پہلے پارلیمنٹ انتخاب میں صدر سیٹ سے مشہور مجاہد آزادی رفیع احمد قدوائی نے فتح حاصل کی تھی اور پنڈت جواہر لعل نہرو  نے حکومت میں خوراک و زراعت کی پورٹ فولیو قدوائی صاحب  کے سپرد کی۔
1951ई. के पहले संसदीय चुनाव में बहराइच सदर सीट से प्रसिद्ध स्वतंत्रता सेनानी रफ़ी अहमद क़िदवई ने कांग्रेस के टिकट पर बहराइच लोकसभा सीट से चुनाव जीता और पंडित जवाहरलाल नेहरू ने अपनी कैबिनेट में कैबिनेट मंत्री बनाया और खाद्य और कृषि मंत्रालय का कार्यभार दिया था ।
اسی طرح 1957ء میں ہوئے انتخاب میں سردار جوگندر سنگھ نے بہرائچ  پارلیمنٹ حلقہ سے کامیابی حاصل  کی۔بعد میں سردار جوگیندر
سنگھ1971ءسے1972ءتک اڈیسہ اور یکم جولائی 1972ء سے14فروری 1977ء تک راجستھان کے گورنر                 رہے۔
1957 ई.में हुए दूसरे लोकसभा चुनाव में स्वतंत्र…

حضرت سید سالار مسعود غازیؒ

Image
حضرت سید سالار مسعود غازیؒ جنید احمد نور

بہرائچ کی  تاریخ میں کیا اہمیت ہے ،یہ مولانا سید  ابو الحسن علی ندوی ؒ سابق صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ؍ سابق ناظم ندوۃ العلما  ٫      لکھنؤ کے ان الفاظ سے سمجھی جا سکتی ہیں جو انہوں نے۱۷اور۱۸؍  اپریل ٫۱۹۸۲؁ میں منعقد ہوئی پانچویں  صوبائی  دینی تعلیمی کانفرنس بہرائچ   میں خطبئہ صدارت میں کہی  تھیں۔  جو یہاں نقل ہے۔’’انسانی فیصلہ کی طاقت  اور کرامت کی ایسی مثالیں ہیں ،جن کا باور کرنا مشکل ہے،اس کی ایک شہادت آپ کا شہر(بہرائچ) پیش کرتا ہے کہ خدا کا ایک بندہ(سید سالار مسعود غازیؒ)غزنی افغانستان سے رفقا٫ کی ایک چھوٹی سی جماعت کے ساتھ اس ملک میں جو ایک تحتی برا عظم ہے،داخل ہوتا ہے،وہ توحید کا پیغام پہنچانے اور انسانوں کو انسانیت کا سبق سکھانے کے لئے سر ہتھیلی پر رکھ کر آئے ،عقل کا فیصلہ صریحاً اس کے خلاف تھا،کوئی  آدمی صحیح الحواس ہونے کے ساتھ اس کی ہمت نہیں کر سکتا تھا کہ اتنے لمبے چوڑے ملک میں ساتھیو ں کی اتنی تھوڑی تعداد کے ساتھ قدم رکھے اور یہ اس وقت کی بات ہے ،جب سفر اور ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل و حرکت کی یہ آسانیاں نہیں تھیں،لیکن وہ اس دور در…

میاں عنایت علی شاہ سہروردی ملتانی بہرائچی

Image
میاں عنایت علی شاہ سہروردی ملتانی بہرائچی رحم اللہ بہرائچ کی قدیم خانقاہوں میں سے ایک خانقاہ بڑی تکیہ کی بنیاد حضرت میاں عنایت علی شاہ سہروردی ملتانی بہرائچی رحم اللہ نے آج سے تقریباً ساڑھے چار سو سال پہلے شہر بہرائچ میں رکھی تھی۔ میاں عنایت علی شاہ ملتان سے  بہرائچ آئے تھے۔آپ کا تعلق مشہور بزرگ حضرت شیخ حبیب ملتانی رحم اللہ کی درگاہ سے تھا ۔آپ بہرائچ حضرت سید سالار مسعود غازی رحم اللہ کی زیارت کرنے کے لیے بہرائچ تشریف لائے تھے۔ ایک بشارت کےبعد آپ نے یہاں اپنی خانقاہ قائم کی تھی۔اس خانقاہ میں ایک  اور بزرگ ہوئے جن کا نام عظیم اللہ شاہ تھا۔عظیم اللہ شاہ درگاہ حضرت سید سالار مسعود غازی رحم اللہ کے کنجی بردار تھے۔میلہ کے موقع پر تمام فقراء و درویشوں کی جماعتیں یہاں قیام کرتی تھیں۔

حضرت میاں عنایت علی شاہ سہروردی ملتانی بہرائچی کے ایک خلیفہ حضرت غلام علی شاہ تھے جو آپ کے جانشین ہوئے۔
جن کے نام سے ایک محلہ غلام علی پورہ آباد ہے۔یہاں کے ایک بزرگ میاں منصور علی شاہ بھی تھے جن کے نام سے محلہ منصور گنج آباد ہے۔

ان تمام بزرگوں کے مقبرے خانقاہ  بڑی تکیہ میں موجود ہیں۔جو قدیم دور کے نمونوں میں ش…

مولانا افتخار الحق قاسمی رحمہ اللہ

Image
میری زیر ترتیب کتاب" بہرائچ ایک تاریخی شہر" سے

جنید احمد نور
مولانا محمد افتخار الحق قاسمی رحمہ اللہ کی خدمات کو لوگ بھولتے جا رہے ہیں ۔۔۔۔۔

محمد افتخار الحق قاسمی رحمہ اللہ  تخلص منورؔ بہرائچی 22 اپریل 1931ء کو محلہ ناظر پورہ شہر بہرائچ میں پیدا ہوئے، آپ کے آبا واجداد قصبہ رسٹرا ضلع بلیا کے باشندے تھے، اور وہاں سے آکر مستقل بہرائچ میں سکونت پزیر ہوگئے تھے۔محمد افتخار الحق قاسمی ایک علمی خانوادہ کے چشم وچراغ، حضرت مولانا محمد احسان الحق صاحبؒ مہتمم اول کے فرزند امجداور بانی جامعہ حضرت مولانا محفوظ الرحمن نامیؒ کے بھتیجے تھے۔
آپ   نے متوسطات تک تعلیم جامعہ مسعودیہ نور العلوم بہرائچ میں حضرت مولانا سید حمید الدین صاحبؒ شیخ الحدیث جامعہ، صاحب مصباح اللغات حضرت علامہ عبد الحفیظ صاحب بلیاویؒ  ، حضرت مولانا محمد سلامت اللہ بیگ صاحبؒ صدر المدرسین جامعہ، حضرت مولانا حافظ نعمان بیگ صاحب مہاجر مکیؒ ناظم تعلیمات جامعہ،اور حضرت مولانا حافظ حبیب احمد صاحبؒ اعمیٰ سے حاصل کی، اور اعلیٰ تعلیم ازہر ہند دار العلوم دیوبند میں اس وقت کے مایہ ناز علما ء   شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ …

سید مظفر حسین کچھوچھوی سابق رکن لوک سبھا بہرائچ

Image
مولانا سید مظفر حسین کی پیدائش اکتوبر1919ء میں بھارت کے صوبہ اتر پردیش کے ضلع فیض آباد کے مشہور قصبہ کچھوچھہ میں ہوئی۔ آپ کے والد کا نام سید اشرف حسین کچھوچھوی تھا۔ آپ کی والدہ کا نام محمد النساء بیگم تھا۔ *حالات

کیفی اعظمی اور بہرائچ

Image
مشہور شاعر کیفی ؔ اعظمی  صاحب کی ولادت 14 جنوری 1919 ء کو ضلع اعظم گڑھ میں ہوئی تھی۔ کیفی صاحب  کا ہمارے تاریخی شہر  بہرائچ سے گہرا تعلق تھا۔آپ کے  بچپن کے دن بھی بہرائچ میں گزرے ہیں۔ کیفی ؔ صاحب کے والد صاحب نواب گنج علی آباد ضلع بہرائچ کے نواب قزلباش کے یہاں ملازمت کرتے تھے اور شہر بہرائچ کے محلہ سید واڑہ قاضی پورہ میں رہتے تھے۔کیفیؔ صاحب نے اپنی پہلی غزل  بہرائچ میں ہی پڑھی تھی۔جیسا کہ کیفی ؔصاحب خود اپنے مجموعہ کلام ’’سرمایہ‘‘ میں لکھتے ہیں   :
واقعہ  یہ ہے کہ ابّا بہرائچ میں تھے۔نواب قزلباش اسٹیٹ(تعلقہ نواب گنج علی آباد بہرائچ)  کے مختار عام یا پتہ نہیں کیا وہا ں  ایک مشاعرہ منعقد ہوا اس وقت زیادہ تر مشاعرے طرحی ہوا کرتے تھے اسی طرح کا ایک مشاعرہ تھا۔بھائی صاحبان لکھنؤسے آئے تھے۔بہرائچ ،گونڈہ،نانپارہ اور قریب دور کے بہت سے شعراء مدعو تھے۔مشاعرے کے صدر مانی                     ؔجائسی صاحب تھے ان کے شعر سننےکا ایک خاص طریقہ تھا کہ وہ شعر سننے کے لئے اپنی جگہ پر اکڑوں بیٹھ جاتے اور اپنا سر اپنے دونوں گھٹنوں سے دبا  لیتے اور جھوم جھوم کے شعر سنتے اور داد دیتے ۔اس وقت شعرا ء حسب مرا…

جامعہ مسعودیہ نورالعلوم بہرائچ کے اولین مہتمم

Image
مولانا الحاج محمد احسان الحق مہتمم اول جامعہ مسعودیہ نورالعلوم بہرائچ مولوی محمد احسان الحق  ؒصاحب  اولین مہتمم جامعہ  مسعودیہ نور العلوم بہرائچ ہی نہیں تھے بلکہ ایک مثالی شخصیت تھے۔آپ  مثل انجمن کے تھے۔مدرسہ کا مہتمم ہونے کے علاوہ آپ عمدہ خطاط  ہونے ساتھ ہی ساتھ اکلیل پریس کے مالک بھی تھے۔ آپ کے صاحبزادے مولانا افتخار الحق ؒقاسمی صاحب کے مضمون سے ظاہر ہے۔جو  مولانا افتخار الحق صاحب کے صاحبزادے ڈاکٹر مولانا ابرارالحق  قاسمی ؔصاحب نے اس ناچیز کو فرہم کیا جس کا کچھ حصہ آپ سب کی خدمت میں پیش ہے۔ دادا جان مولانا نور محمد ؒصاحب کے تذکرے میں لکھا جا چکا ہے سیہ کار کے والد ماجد محمد احسان  الحق  دادا کی پہلی اولاد نرینہ ہیں۔اس لئے ظاہر ہے کہ انکی پیدائش پر غیر معمولی خوشی ہوئی ہوگی۔والد ماجد محمد احسان الحق صاحب کی ولادت 1316ھ مطابق 1898 ء میں  قصبہ رسڑا ضلع بلیا میں ہوئی۔ تاریخی نام قربان احمد یا قربان علی تجویز ہوا  مگر پھرآپ محمد احسان الحق نام رکھا گیا اور اسی نام سے عقیقہ ہوا۔جب کچھ سنِ شعور کو پہنچے تو پھر پڑھائی کی ابتداء ہوئی غالب گمان یہ ہے کہ قرآن پاک اور کچھ ابتدائی تعلیم گھر پر …