Posts

کیفی اعظمی اور بہرائچ

Image
مشہور شاعر کیفی ؔ اعظمی  صاحب کی ولادت 14 جنوری 1919 ء کو ضلع اعظم گڑھ میں ہوئی تھی۔ کیفی صاحب  کا ہمارے تاریخی شہر  بہرائچ سے گہرا تعلق تھا۔آپ کے  بچپن کے دن بھی بہرائچ میں گزرے ہیں۔ کیفی ؔ صاحب کے والد صاحب نواب گنج علی آباد ضلع بہرائچ کے نواب قزلباش کے یہاں ملازمت کرتے تھے اور شہر بہرائچ کے محلہ سید واڑہ قاضی پورہ میں رہتے تھے۔کیفیؔ صاحب نے اپنی پہلی غزل  بہرائچ میں ہی پڑھی تھی۔جیسا کہ کیفی ؔصاحب خود اپنے مجموعہ کلام ’’سرمایہ‘‘ میں لکھتے ہیں   :
واقعہ  یہ ہے کہ ابّا بہرائچ میں تھے۔نواب قزلباش اسٹیٹ(تعلقہ نواب گنج علی آباد بہرائچ)  کے مختار عام یا پتہ نہیں کیا وہا ں  ایک مشاعرہ منعقد ہوا اس وقت زیادہ تر مشاعرے طرحی ہوا کرتے تھے اسی طرح کا ایک مشاعرہ تھا۔بھائی صاحبان لکھنؤسے آئے تھے۔بہرائچ ،گونڈہ،نانپارہ اور قریب دور کے بہت سے شعراء مدعو تھے۔مشاعرے کے صدر مانی                     ؔجائسی صاحب تھے ان کے شعر سننےکا ایک خاص طریقہ تھا کہ وہ شعر سننے کے لئے اپنی جگہ پر اکڑوں بیٹھ جاتے اور اپنا سر اپنے دونوں گھٹنوں سے دبا  لیتے اور جھوم جھوم کے شعر سنتے اور داد دیتے ۔اس وقت شعرا ء حسب مرا…

جامعہ مسعودیہ نورالعلوم بہرائچ کے اولین مہتمم

Image
مولانا الحاج محمد احسان الحق مہتمم اول جامعہ مسعودیہ نورالعلوم بہرائچ مولوی محمد احسان الحق  ؒصاحب  اولین مہتمم جامعہ  مسعودیہ نور العلوم بہرائچ ہی نہیں تھے بلکہ ایک مثالی شخصیت تھے۔آپ  مثل انجمن کے تھے۔مدرسہ کا مہتمم ہونے کے علاوہ آپ عمدہ خطاط  ہونے ساتھ ہی ساتھ اکلیل پریس کے مالک بھی تھے۔ آپ کے صاحبزادے مولانا افتخار الحق ؒقاسمی صاحب کے مضمون سے ظاہر ہے۔جو  مولانا افتخار الحق صاحب کے صاحبزادے ڈاکٹر مولانا ابرارالحق  قاسمی ؔصاحب نے اس ناچیز کو فرہم کیا جس کا کچھ حصہ آپ سب کی خدمت میں پیش ہے۔ دادا جان مولانا نور محمد ؒصاحب کے تذکرے میں لکھا جا چکا ہے سیہ کار کے والد ماجد محمد احسان  الحق  دادا کی پہلی اولاد نرینہ ہیں۔اس لئے ظاہر ہے کہ انکی پیدائش پر غیر معمولی خوشی ہوئی ہوگی۔والد ماجد محمد احسان الحق صاحب کی ولادت 1316ھ مطابق 1898 ء میں  قصبہ رسڑا ضلع بلیا میں ہوئی۔ تاریخی نام قربان احمد یا قربان علی تجویز ہوا  مگر پھرآپ محمد احسان الحق نام رکھا گیا اور اسی نام سے عقیقہ ہوا۔جب کچھ سنِ شعور کو پہنچے تو پھر پڑھائی کی ابتداء ہوئی غالب گمان یہ ہے کہ قرآن پاک اور کچھ ابتدائی تعلیم گھر پر …

Sufi Abu Mohammad Wasil Bahraichi Passed away

Image
Last poet of #Persian#Poetry of District #Bahraich Sufi Abu Mohammad Wasil Bahraichi passed away yesterday evening at his resident in Bahraich 
https://www.rekhta.org/poets/abu-mohammad-wasil
************Life Sketch*************
Sufi Abu Mohammad Wasil Bahraichi is passed away yesterday evening at own home .He was born on unofficial age was 103 years . Official age July 1922 (as per told to my when I meets first time for his biographical details for Urdu Wikipedia and my coming book "Bahraich Ek Tareekhi Sahar " ) in the house of Chaudhry Shafiullah and Mumtaz Bandi .His father was passed away in his childhood (Wasil' sahab's age 8 years.),after completion of the high school he join for some years accounts section of army and Post office's accounts section . His poetric line goings to Hazrat Daagh Dehelvi.His Ustad Wahid Ali Bilgrami was student of Hazrat Jigar Biswani saheb .Jigar Biswani saheb was student of Hazrat Mirza Daagh Dehelvi. He was last poet of Persia…

इज़हार वारसी एक नज़र

Image
इज़हार वारसी
اظہار وارثی
इज़हार वारसी जन्ममोहम्मद इज़हार वारसी
21 नवम्बर 1940 (आयु 77)
बहराइच,उत्तर प्रदेशभारतमृत्यु21 अगस्त 2018
बहराइच,उत्तर प्रदेशभारतमृत्यु स्थान/समाधिबहराइच,उत्तर प्रदेशभारतव्यवसायकवि,निवासमोहल्ला ब्राहमणीपुरा बहराइच,उत्तर प्रदेशराष्ट्रीयताभारतीयशिक्षाकामिलउच्च शिक्षाजामिया उर्दू अलीगढ़सन्तानचारसम्बन्धीहकीम सफदर वारसीहस्ताक्षरजालस्थलFacebook Pageइज़हार वारसी का जन्म 21 नवम्बर् 1940ई.बहराइच के मोहल्ला ब्राहमणीपुरा में हकीम मोहम्मद अज़हर वारसी के यहाँ हुआ था । आपके पिता का नाम हाकिम अज़हर वारसी और माता का नाम कनीज़ सकीना था। इज़हार साहिब के दादा हकीम सफदर वारसी और पिता हकीम अज़हर वारसी को शहर के प्रसिद्ध चिकित्सको में शुमार होते थे ।हकीम सफदर साहब हाजी वारिस अली शाह के मुरीद थे और हाजी वारिस अली शाह पर एक पुस्तक लिखी जिसका नाम जलवा-ए- वारिस है। ये किताब उर्दू मे है। इज़हार साहिब के पिता अज़हर वारसी उस्ताद शायरों में शुमार होते थे। इज़हार साहिब सरकारी नौकरी से सेवानिवृत्त हुए थे। आपकी एक खास बात है आप सिर्फ़ कविता लिखते हैं किसी मुशायरा में पढ़ने नहीं जाते थे।

Izhar warsi's Rare Interview with Wasif Farooqui Sahab

Image
Late  Izhar Warsi​ Legendary Poet of Bahraich.He was died recently on 21 August 2018 at Bahraich. Interview by Wasif Farooqui​ Sahab .

With Thanks Izhar Sahab's Son In Law Danish Mirza​ Bhai .

آہ! استاذ الشراء اظہارؔ وارثی

Image
آہ! استاذ الشراءاظہارؔ وارثیبہت قریب ہیں ہم تھوڑا فاصلہ کر لیں۔۔۔۔۔اظہارؔوارثی

جمال وارثی بہرائچی

Image
سید عبد الشکور تخلص جمال ؔ وارثی کی پیدائش 1894ءمیں علاقہ ادوھ کے شہر بہرائچ کے محلہ قاضی پورہ میں ہوئی تھی۔ آپ کے والد محکمہ پولیس میں سب انسپکٹر تھے۔ڈاکٹر عبرت بہرائچی نقوش رفتگاں میں آپ کے بارے میں لکھا ہے کہ جمال صاحب مولانا وارث حسن صاحب کے مریدین میں تھے۔جن کا مزار لکھنؤ کی ٹیلے والی مسجد پہ ہے۔ آپ نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی تھی۔ آپ کی شادی مرحوم سید کلیم احمد صاحب کی چھوٹی بہن سے ہوئی تھی۔ آپ کا مولانا شاہ نعیم اللہ بہرائچیؒ خلیفہ حضرت مرزا مظہر جان جاناںؒ کے خاندان سے قریبی تعلق تھا۔ جمال وارثی ریاست نانپارہ میں کافی وقت تک سربراہ کار کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دئے ۔آزادی کے بعد آپ نے کچھ دنوں تک حضرت سیف اللہ شاہ سجادہ نشین خانکاہ بڑی تکیہ میں منیجر کی حیثیت سے خدمات انجام دی۔ آپ کے پسماندگان میں ایک بیٹے شہر بہرائچ کے مشہور وکیل سید مسعود المنان ایڈوکیٹ اور ایک بیٹی جو پاکستان میں بیاہی ہے بقید حیات ہے اس کے علاوہ آپ کے ایک صاحب زادے سید عبد المنان (شہر بہرائچ کے مشہور ہاکی کھلاڑی )اور تین بیٹوں کا انتقال ہو چکا ہے۔ جمال وارثی صاحب کے بارے میں عبرت بہرائچی لکھتے ہیں کہ جم…